ہیوسٹن، 12 ستمبر 2026 — روس آئندہ ہفتے ہیوسٹن میں ہونے والے جی 20 کے اہم توانائی اجلاس میں اپنا نمائندہ بھیجے گا۔ اجلاس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے حکام توانائی کے تحفظ، سپلائی چین اور عالمی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ روسی نمائندہ جی 20 منسٹریل میٹنگ آن انرجی ابونڈنس میں شرکت کرے گا، جو 14 سے 16 ستمبر تک ہیوسٹن میں ہوگی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ روس کی جانب سے اجلاس میں کون شرکت کرے گا۔
اجلاس میں امریکا کی جانب سے وزیر داخلہ ڈگ برگم، وزیر توانائی کرس رائٹ اور وائٹ ہاؤس کے عہدیدار جیرڈ ایجن سمیت دیگر حکام شرکت کریں گے۔
بھارت بھی اجلاس میں شریک ہوگا۔ جی 20 کے رکن ملک بھارت کی نمائندگی وزیر برائے توانائی و ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرز منوہر لال کریں گے۔ اجلاس میں توانائی کے تحفظ، سستی اور قابل اعتماد بجلی، ضابطہ کاری اور اہم معدنیات کی سپلائی چین جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
روس کی جانب سے جی 20 اجلاس میں شرکت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ ماہ روسی وزیر خزانہ انتون سلیوانوف نے شمالی کیرولائنا میں ہونے والے جی 20 وزرائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ یہ 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد پہلا موقع تھا کہ روسی وزیر خزانہ نے ذاتی طور پر جی 20 فورم میں شرکت کی۔
ہیوسٹن عالمی توانائی مباحثے کا مرکز
ہیوسٹن میں ہونے والا اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب یوکرین اور ایران کی جنگوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے خدشات نے بھی عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی قیمت پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔
دنیا بھر میں توانائی کے دارالحکومت کے طور پر پہچانے جانے والے ہیوسٹن میں تیل و گیس کی بڑی کمپنیاں، توانائی کے تاجر، انجینئرز اور عالمی توانائی کے شعبے سے وابستہ ہزاروں ماہرین موجود ہیں، جس کے باعث یہ شہر ایسے اہم اجلاس کے لیے ایک اہم مقام بن گیا ہے۔
پاکستانی کمیونٹی کے لیے اہم کیوں؟
ہیوسٹن میں بڑی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی بھی آباد ہے۔ اگرچہ پاکستان جی 20 کا رکن نہیں ہے، تاہم بڑی عالمی معیشتوں کی جانب سے توانائی سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات پاکستان اور پاکستانی نژاد امریکی خاندانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ، کاروباری اخراجات اور مہنگائی کو متاثر کرتا ہے، جبکہ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست اہمیت رکھتا ہے۔
ہیوسٹن میں ہونے والا یہ اجلاس اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ توانائی کے تحفظ کا معاملہ اب صرف معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست، قومی سلامتی اور جغرافیائی کشیدگی سے بھی جڑ چکا ہے۔
اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ہونے والی بات چیت کو "بہترین” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی رہنما یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں۔
روس، امریکا، بھارت اور دیگر بڑی معیشتوں کی شرکت کے باعث ہیوسٹن میں ہونے والے جی 20 توانائی اجلاس پر عالمی توانائی پالیسی کے ساتھ ساتھ اس کے وسیع تر سفارتی اور جغرافیائی سیاسی اثرات کے حوالے سے بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔




