ہیوسٹن اور اس کے اطراف پیر کی صبح سردی نے اپنی پوری شدت دکھائی، جب درجۂ حرارت بیس کے عشرے میں ریکارڈ کیا گیا اور شدید سردی کی وارننگ منگل کی دوپہر تک نافذ رہی۔ یہ سرد لہر شہریوں کے لیے ایک واضح تنبیہ بن کر سامنے آئی کہ موسم کی سختی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق پیر کی سہ پہر موسم میں عارضی نرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے اور درجۂ حرارت تیس کے آخری یا چالیس کے ابتدائی درجوں تک پہنچنے کا امکان ہے، مگر یہ سکون لمحاتی ہوگا اور زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گا۔ پیر کی رات ایک بار پھر سردی کا زور بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ منگل کی صبح درجۂ حرارت چھبیس ڈگری تک گرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو سرد موسم کے تسلسل کا واضح اشارہ ہے۔ نیشنل ویدر سروس کے مطابق اتوار کی صبح جمنے والی برف کا کچھ حصہ دن کے وقت پگھل گیا ہوگا، تاہم خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ خاص طور پر پلوں اور فلائی اوورز پر جمی برف اب بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ہیوسٹن میٹرز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محکمۂ موسمیات کے عہدیدار میٹ مورلینڈ نے انکشاف کیا کہ اتوار کا دن ہیوسٹن کی تاریخ کے سرد ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے، جب سہ پہر کے وقت بھی درجۂ حرارت بیس کے عشرے سے باہر نہ نکل سکا۔

میٹ مورلینڈ کا کہنا تھا کہ اگرچہ برف آہستہ آہستہ ختم ہو سکتی ہے، مگر پلوں اور فلائی اوورز پر یہ زیادہ دیر تک جمی رہتی ہے، جس سے گاڑی چلانے والوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہر کے بعض علاقوں میں اب بھی ان مقامات پر برف کے چھوٹے چھوٹےحصے موجود ہو سکتے ہیں۔ سردی کی اس لہر کے باعث بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ سینٹر پوائنٹ انرجی کے مطابق پیر کی صبح تک ہیوسٹن کے مختلف علاقوں میں تقریباً چودہ سو گھروں اور کاروباری مراکز کو بجلی کی بندش کا سامنا رہا۔ محکمۂ موسمیات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہفتے بھر بالخصوص مضافاتی علاقوں میں ہلکی سردی اور ٹھنڈ برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔




