امریکا کے محکمۂ شماریاتِ محنت کی تازہ رپورٹ کے مطابق گریٹر ہیوسٹن کے رہائشی امریکا کے دیگر تمام بڑے شہری علاقوں کے مقابلے میں اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ آمدورفت پر خرچ کر رہے ہیں۔ دو ہزار تیئیس اور دو ہزار چوبیس کے اعداد و شمار کے مطابق ہیوسٹن کے شہری اپنی مجموعی گھریلو اخراجات کا تقریباً بیس فیصد آمدورفت پر خرچ کر رہے ہیں، جو کہ قومی اوسط سے تقریباً تین فیصد زیادہ ہے۔ یہ شرح رپورٹ میں شامل اکیس بڑے شہری علاقوں میں سب سے زیادہ ہے، جس میں لاس اینجلس، میامی، سان فرانسسکو اور نیویارک جیسے شہر بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہیوسٹن میں رہائش کے اخراجات بھی قومی اوسط سے قدرے زیادہ ہیں۔ یہاں کے رہائشی اپنی آمدنی کا تقریباً چونتیس فیصد رہائش پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ پورے امریکا میں یہ اوسط تقریباً تینتیس فیصد ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہیوسٹن، ہونولولو، نیویارک اور میامی جیسے شہروں کے مقابلے میں اب بھی نسبتاً کم مہنگا سمجھا جاتا ہے، جہاں رہائش پر آمدنی کا کہیں زیادہ حصہ خرچ ہوتا ہے۔

ڈلاس اور فورٹ ورتھ کے علاقے میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں رہائشی قومی اوسط سے زیادہ آمدورفت اور رہائش پر خرچ کر رہے ہیں، تاہم ان کا تناسب ہیوسٹن جتنا زیادہ نہیں۔ آمدورفت کے اخراجات کے لحاظ سے ڈلاس فورٹ ورتھ، ہیوسٹن کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ محکمۂ شماریاتِ محنت کے ماہرِ معاشیات ایڈورڈ لیپس کے مطابق اس رجحان کی ایک بڑی وجہ ٹیکساس کے اہم معاشی خطے میں مسلسل آبادی کی منتقلی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سے پندرہ برسوں کے دوران یہ علاقہ ایک مضبوط معاشی مرکز بن چکا ہے، جس کی وجہ سے لوگ یہاں منتقل ہو رہے ہیں۔ اگرچہ ہیوسٹن کے شہری زیادہ خرچ کر رہے ہیں، تاہم ان کی آمدنی بھی قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار تیئیس اور دو ہزار چوبیس کے دوران ہیوسٹن کے رہائشیوں کی اوسط سالانہ آمدنی ایک لاکھ پانچ ہزار آٹھ سو ڈالر رہی، جو کہ قومی اوسط سے تقریباً دو ہزار آٹھ سو ڈالر زیادہ ہے۔ اس کے باوجود مجموعی اخراجات قومی اوسط سے تقریباً سات ہزار پانچ سو ڈالر زیادہ رہے۔ تفریح پر خرچ کے معاملے میں بھی ہیوسٹن نمایاں ہے۔ جہاں ایک عام امریکی اپنی آمدنی کا تقریباً ساڑھے چار فیصد تفریح پر خرچ کرتا ہے، وہیں ہیوسٹن کے شہری چھ فیصد سے زائد رقم تفریح اور مشاغل پر خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس خوراک، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں ہیوسٹن کے شہری قومی اوسط کے مقابلے میں کم خرچ کرتے ہیں، جو جزوی طور پر دیگر اخراجات کے بوجھ کو متوازن بناتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہیوسٹن میں گاڑیوں پر انحصار اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے آمدورفت کو سب سے بڑا خرچ بنا دیا ہے، جو اسے امریکا کے دیگر بڑے شہروں سے نمایاں طور پر مختلف بناتا ہے۔




