ٹیکساس بھر کے خاندان جلد ریاست کے نئے ایک ارب ڈالر کے تعلیمی انتخابی منصوبے کے لیے درخواست دے سکیں گے، جس کی درخواستوں کا آغاز چار فروری سے ہوگا۔ یہ منصوبہ، جسے ٹیکساس ایجوکیشن فریڈم اکاؤنٹس کہا جا رہا ہے، اس بات میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے کہ سرکاری تعلیمی رقوم کس طرح استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ریاستی حکام نے دسمبر میں اس منصوبے کی تفصیلات جاری کیں۔ اس کے تحت سرکاری خزانے سے فراہم کی جانے والی تعلیمی رقوم خصوصی تعلیمی بچت کھاتوں میں منتقل کی جائیں گی، تاکہ والدین اپنے بچوں کو سرکاری نظام کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں میں داخل کرا سکیں۔

زیادہ تر اہل خاندانوں کو ہر طالب علم کے لیے سالانہ تقریباً دس ہزار ڈالر دیے جائیں گے، جو ریاست کی جانب سے سرکاری اسکول کے ایک طالب علم پر خرچ کی جانے والی رقم کا تقریباً پچاسی فیصد بنتا ہے۔ گھریلو تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے سالانہ دو ہزار ڈالر مختص ہوں گے، جبکہ معذور طلبہ کو ان کی ضروریات کے مطابق تیس ہزار ڈالر تک دیے جا سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ تمام طلبہ کے لیے کھلا ہے، تاہم اگر درخواستیں دستیاب بجٹ سے زیادہ ہوئیں تو قرعہ اندازی کے ذریعے انتخاب کیا جائے گا۔ ترجیح سب سے پہلے ان معذور طلبہ کو دی جائے گی جن کے خاندان کی سالانہ آمدن چار افراد کے لیے تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار ڈالر تک ہو۔ اس کے بعد وہ خاندان آئیں گے جن کی آمدن وفاقی غربت کی لکیر سے تقریباً دو گنا، یعنی ساٹھ ہزار ڈالر کے قریب ہو۔ اگلی ترجیح ساٹھ ہزار سے دو لاکھ چالیس ہزار ڈالر آمدن والے خاندانوں کو دی جائے گی، جبکہ اس سے زیادہ آمدن والے خاندانوں کو کم ترجیح حاصل ہوگی۔
اس منصوبے سے حاصل ہونے والی رقم نجی اسکولوں کی فیس، وردی، کھانے، سفری اخراجات، منظور شدہ آن لائن یا ریاست سے باہر کے تعلیمی پروگراموں اور ابتدائی جماعتوں کی تعلیم پر خرچ کی جا سکے گی۔ یہ رقم کسی خاندانی فرد کو ادا نہیں کی جا سکے گی۔ اگرچہ مکمل نفاذ کا شیڈول ابھی حتمی نہیں، مگر توقع ہے کہ کچھ خاندانوں کو جولائی سے رقوم ملنا شروع ہو جائیں گی۔ گورنر گریگ ایبٹ نے مئی میں سینیٹ بل نمبر دو کے تحت اس منصوبے کو قانون کا حصہ بنایا، حالانکہ اس سے قبل متعدد قانون ساز اجلاسوں میں یہ تجویز منظور نہ ہو سکی تھی۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے زیادہ اختیار دیتا ہے۔ گورنر ایبٹ کے مطابق اب وہ دور ختم ہو چکا ہے جب خاندان صرف حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اسکول تک محدود تھے، اور اب والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بچے کے لیے بہترین تعلیمی ادارہ منتخب کر سکیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار سرکاری اسکولوں سے فنڈز چھین لے گا۔ ریاستی رکن اسمبلی جیمز ٹیلاریکو کے مطابق اس کے نتائج اس وقت واضح ہوں گے جب محلوں کے اسکول بند ہونا شروع ہوں گے۔ دسمبر میں گورنر ایبٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ٹیکساس ایک وفاقی ٹیکس کریڈٹ اسکالرشپ منصوبے میں شمولیت اختیار کرے گا، جو دو ہزار ستائیس میں شروع ہوگا۔ یہ منصوبہ براہ راست رقوم دینے کے بجائے عطیات پر ٹیکس میں رعایت فراہم کرے گا۔

کون فائدہ اٹھائے گا
اسکول انتخابی منصوبوں کی امریکی تاریخ طویل اور متنازع رہی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں اس کی ابتدائی شکلیں سامنے آئیں، مگر انیس سو چون میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق تاریخی عدالتی فیصلے کے بعد کچھ ریاستوں میں ان منصوبوں کو تعلیمی انضمام کی کوششوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جدید دور میں یہ منصوبے انیس سو نوے کی دہائی میں دوبارہ متعارف ہوئے اور انہیں تعلیمی انتخاب اور کم آمدن طبقے کی مدد کے طور پر پیش کیا گیا۔ آج تیس سے زائد ریاستوں اور وفاقی دارالحکومت میں کسی نہ کسی شکل میں ایسے منصوبے موجود ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی ریاستوں نے انہیں تمام طلبہ کے لیے عام کر دیا ہے، جبکہ تعلیمی بچت کھاتے سب سے زیادہ لچکدار نظام کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ ان منصوبوں کو کم آمدن خاندانوں کے لیے نجی اسکولوں تک رسائی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، مگر ریاستی مالی تجزیے کے مطابق ٹیکساس میں اس منصوبے کے تقریباً ستاسی فیصد درخواست گزار ایسے ہوں گے جو پہلے ہی نجی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ زیادہ تر خوشحال خاندانوں کے لیے مالی سہولت بن جائے گا۔ دیگر ریاستوں کے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شمالی کیرولائنا میں آمدن کی حد ختم ہونے کے بعد تقریباً نوے فیصد فائدہ اٹھانے والے پہلے سے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم تھے۔ اسی طرح ایریزونا، آرکنساس، فلوریڈا، انڈیانا، آئیوا، میزوری، نیو ہیمپشائر، اوہائیو اور وسکونسن میں بھی اکثریت نے پہلے کبھی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ قومی سطح پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ایسے منصوبوں سے نجی اسکولوں میں داخلے میں صرف تین سے چار فیصد اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل فائدہ پہلے سے نجی تعلیم حاصل کرنے والے خاندانوں کو ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ آمدن پر سخت پابندیوں کا نہ ہونا ہے۔ ٹیکساس میں آمدن کی بنیاد پر ترجیح دی جاتی ہے، مگر مکمل پابندی نہیں لگائی گئی، جس کے باعث بڑی تعداد میں متوسط اور بالائی متوسط طبقے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ایک اور مسئلہ نجی اسکولوں کے اخراجات ہیں، جو اکثر اس منصوبے کے تحت ملنے والی رقم سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ معلومات کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سروے کے مطابق ٹیکساس کے نصف سے زیادہ والدین کو اب تک اس منصوبے کا علم ہی نہیں، جبکہ بہت کم والدین اس کی تفصیلات سے پوری طرح واقف ہیں۔

تعلیمی نتائج پر سوال
یہ بحث بھی شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا سرکاری اسکول چھوڑ کر نجی اسکول جانے والے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی واقعی بہتر ہوتی ہے یا نہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر صورتوں میں طلبہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری نہیں آتی، اور کئی طلبہ بعد میں دوبارہ سرکاری اسکولوں میں واپس آ جاتے ہیں۔ ٹیکساس میں نتائج کا موازنہ مزید مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ نجی اسکولوں کے طلبہ پر وہی معیاری امتحانات لازم نہیں ہوں گے جو سرکاری اسکولوں میں ہوتے ہیں۔ انڈیانا جیسی ریاستوں میں، جہاں دونوں نظاموں میں ایک جیسے امتحانات ہوتے ہیں، نتائج سے پتا چلتا ہے کہ نجی اسکولوں کے طلبہ کی کارکردگی یا تو برابر رہی یا کمزور ثابت ہوئی۔نگرانی اور شفافیت بھی ایک بڑا سوال ہے۔ اگرچہ سینکڑوں اسکول اور تعلیمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے درخواست دے چکے ہیں، مگر ریاست نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ ان اداروں کی جانچ اور معیار کی نگرانی کس طرح کی جائے گی۔
سرکاری تعلیم پر دباؤ
اس منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے سرکاری اسکولوں کے وسائل مزید کم ہوں گے، کیونکہ ٹیکساس میں تعلیمی فنڈنگ طلبہ کی تعداد سے منسلک ہے۔ اگرچہ اس سال سرکاری اسکولوں کے لیے اضافی بجٹ منظور کیا گیا، مگر طلبہ کے نکلنے سے آمدن میں کمی آ سکتی ہے۔اسکولوں کے بہت سے اخراجات مستقل نوعیت کے ہوتے ہیں، جیسے عمارتوں کی دیکھ بھال، بجلی اور عملے کی تنخواہیں، جو طلبہ کی تعداد کم ہونے سے کم نہیں ہوتیں۔ نتیجتاً باقی رہ جانے والے طلبہ کے لیے وسائل مزید محدود ہو جاتے ہیں۔بڑے اضلاع، جیسے ہیوسٹن کا تعلیمی ضلع، پہلے ہی طلبہ کی تعداد میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس ضلع کی گنجائش دو لاکھ سے زائد طلبہ کی ہے، مگر اس وقت داخلہ تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے، اور نیا منصوبہ اس کمی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔اخراجات کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایک ارب ڈالر سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ آنے والے برسوں میں کئی گنا مہنگا ہو سکتا ہے، اور اندازوں کے مطابق دو ہزار تیس اکتیس تک اس کا بجٹ تقریباً آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔دیگر ریاستوں میں ایسے منصوبوں کے اخراجات توقع سے کہیں زیادہ بڑھے، جیسا کہ ایریزونا میں ہوا، جہاں ابتدائی اندازہ پینسٹھ ملین ڈالر تھا مگر اب لاگت سات سو ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے شفافیت اور مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بروقت معلومات اور عوامی احتساب ہی اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ٹیکساس کا یہ منصوبہ دیگر اہم ریاستی ضروریات کو نقصان پہنچائے بغیر آگے بڑھے۔جیسے جیسے ٹیکساس ملک کے بڑے تعلیمی انتخابی منصوبوں میں سے ایک کے نفاذ کی جانب بڑھ رہا ہے، یہ سوال بدستور موجود ہے کہ اس سے اصل فائدہ کس کو ہوگا، اخراجات کہاں تک جائیں گے، اور سرکاری تعلیم پر اس کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے۔




