ہیوسٹن کے صابرین سینٹر میں جمعہ کی نماز کے موقع پر نمازیوں نے احترام، احتساب اور پُرامن بقائے باہمی کا ایک مضبوط پیغام سنا۔ امریکی کانگریس کے رکن ال گرین اور اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ہیوسٹن کے صدر عمران غازی نے اجتماع سے خطاب کیا۔ کانگریس مین ال گرین نے حالیہ اسلاموفوبک بیانات کا سامنا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب کا احترام امریکی معاشرے کی بنیادی قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی اور مناسب طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے۔
عمران غازی نے ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے مختلف برادریوں کے درمیان اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے رہنماؤں اور عوام پر زور دیا کہ وہ مل کر اسلاموفوبیا کے خلاف کام کریں اور مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان بہتر سمجھ بوجھ پیدا کریں۔ یہ تقریب ہیوسٹن کی مذہبی آزادی، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے جاری کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔ نماز کے بعد کانگریس مین ال گرین نے شرکاء سے خوشگوار انداز میں ملاقات کی اور ان کے ساتھ دوستانہ گفتگو بھی کی۔

یہ مسجد کا دورہ کانگریس مین ال گرین کی انتخابی مہم کا حصہ تھا، جس کا مقصد مقامی کمیونٹیز سے روابط مضبوط کرنا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی نژاد امریکی ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید اور ابراہیم جاوید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جو پاکستانی کمیونٹی میں اس رابطے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کمیونٹی رہنماؤں عمران غازی، فواد کوچن والا اور شہزاد چھتری والا نے کانگریس مین کا استقبال کیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد انہوں نے مختصر خطاب میں امریکہ میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا پر تشویش کا اظہار کیا اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
کانگریس مین ال گرین نے اسلام آباد میں حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تعمیری اور مؤثر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے امکانات واضح نظر آ رہے ہیں اور پاکستانی عوام کو عالمی سطح پر اپنے کردار پر فخر ہونا چاہیے۔ طاہر جاوید نے مزید کہا کہ پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود نہیں بلکہ وہ عالمی سطح پر عدم استحکام کو روکنے اور بڑے بین الاقوامی تنازع سے بچنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ دورہ امریکہ میں بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام اور عالمی سطح پر سفارتی پیش رفت کے حوالے سے امید کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مقامی اور بین الاقوامی دونوں پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔




