پاکستان میں ڈاؤن سینڈروم اور ذہنی معذوری کے شکار بچوں کی تعلیم و تربیت سے وابستہ معروف ادارہ "سائینوسا” (Society for Children In Need of Special Assistance) نے ہیوسٹن میں اپنا پہلا بین الاقوامی پروگرام منعقد کر کے تاریخ رقم کر دی۔ یہ تقریب نہ صرف ایک یادگار لمحہ تھی بلکہ چھ دہائیوں پر محیط اس ادارے کی بے مثال خدمات کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کی ایک شاندار کوشش بھی ثابت ہوئی۔ہیوسٹن میں ہونے والے اس آگاہی برنچ میں ممتاز سماجی، کاروباری اور فلاحی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء میں نامور سماجی کارکن و فنکار جمی انجینئر، ٹی سی ایف امریکہ کے صدر عارف غفور اور پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جاوید اشرف شامل تھے۔ ان کے علاوہ مقامی کمیونٹی لیڈرز، مخیر حضرات اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کر کے سائینوسا کے مشن کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔تقریب کے دوران شرکاء کو تنظیم کے قیام، اس کے بانی مشن، اور پاکستان میں خصوصی بچوں کے لیے فراہم کی جانے والی تعلیمی، علاجی اور پیشہ ورانہ تربیتی خدمات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر سائینوسا کے باصلاحیت طلبہ کی تیار کردہ خوبصورت مصنوعات نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا، جو ان بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور عزم کا عملی ثبوت تھیں۔سائینوسا کی ٹرسٹی راحت خان نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ دنیا بھر سے بے شمار افراد اور عطیہ دہندگان برسوں سے اس مشن کا حصہ رہے ہیں، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ ادارے نے اپنی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا ہے۔ ان کے بقول، یہ لمحہ ایک خواب کی تعبیر ہے، کیونکہ یہ تقریب دراصل سائینوسا کے عالمی سفر کا آغاز ہے۔ انہوں نے اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ایونٹ کی کامیابی کے لیے اپنی محنت اور جذبے سے کوئی کسر نہ چھوڑی۔

یہ تقریب انسانی ہمدردی، اتحاد اور شمولیت کا حسین مظہر تھی ،۔ ایک ایسا اجتماع جس نے یہ ثابت کر دیا کہ محبت، احساس اور مدد کے جذبے کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ سائینوسا کا یہ قدم نہ صرف خصوصی بچوں کے روشن مستقبل کی امید ہے بلکہ معاشرے میں ان کے لیے عزت، وقار اور مواقع کے دروازے کھولنے کی جانب ایک مضبوط پیش رفت بھی ہے۔





