پاکستانی نژاد امریکی کانگریسی امیدوار بشریٰ امیوالہ، جو ریاست الی نوائے (Illinois) سے انتخاب لڑ رہی ہیں، کو ہیوسٹن میں انتخابی مہم کے دوران شاندار خیرمقدم ملا۔ پاکستانی ڈائسپورا کی سب سے کم عمر اور متحرک سیاسی شخصیات میں شمار کی جانے والی امیوالہ تیزی سے امریکی سیاست میں ابھرتی ہوئی آواز بن رہی ہیں۔

ٹیکساس میں ڈلاس اور ہیوسٹن کا دورہ
اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں امیوالہ نے ڈلاس اور ہیوسٹن کا دورہ کیا تاکہ مسلم اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کے ساتھ قریبی روابط قائم کر سکیں۔ ہیوسٹن میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس کی میزبانی ممتاز ڈیموکریٹ رہنما طاہر جاوید نے کی۔ اس موقع پر کمیونٹی کے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور ان کے ویژن و انتخابی ترجیحات کو سنا۔

حلال فوڈ اور تعلیمی پالیسی پر زور
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیوالہ نے تعلیمی اداروں میں حلال فوڈ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔
ہجرتی پس منظر پر فخر
انہوں نے اپنے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ ان پاکستانی والدین کی بیٹی ہیں جو کراچی سے امریکا ہجرت کر کے آئے۔ امیوالہ نے اپنی امیدوار ی کو ’’امریکن ڈریم‘‘ کی حقیقی علامت قرار دیا۔

پاک-امریکا تعلقات میں بہتری کا عزم
خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے امیوالہ نے زور دیا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں تعمیری کردار ادا کریں گی۔
امریکی سیاست میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کا بڑھتا اثر
ٹیکساس میں ان کی انتخابی تقریبات کو ان کی مہم کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف امیوالہ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بلکہ امریکی سیاست میں پاکستانی امریکنز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔




