پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن (PAGH) کے تحت منعقد ہونے والی معروف ادبی محفل "کتاب اور چائے” کا حالیہ اجلاس ایک یادگار شام میں تبدیل ہو گیا، جہاں معروف ادیب بشیر قمر کی نئی کتاب "عجائباتِ قاہرہ” کی تقریبِ رونمائی نے حاضرین کے دل جیت لیے۔

یہ ادبی شام ادب دوستوں، دانشوروں اور کمیونٹی رہنماؤں کو ایک چھت تلے لے آئی، جہاں جذبات، یادیں، اور زبان و ثقافت سے محبت ہر چہرے پر جھلک رہی تھی۔ حاضرین نے اس تقریب کو "روح کو چھو لینے والی” اور "یادگار” قرار دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کتابیں نسلوں اور ثقافتوں کو جوڑنے میں کیسا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ایک ادبی سفر کو خراجِ تحسین
یہ محفل صرف ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی، بلکہ بشیر قمر کی اردو ادب کے لیے طویل خدمات کا اعتراف بھی تھا۔ سفرناموں اور ثقافتی موضوعات پر گہری نظر رکھنے والے بشیر قمر کی تحریریں ہمیشہ قاری کو ایک نئے جہان میں لے جاتی ہیں۔ عجائباتِ قاہرہ میں قاہرہ کے حسن، تاریخ اور تہذیبی ورثے کو اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ قاری گویا خود ان گلیوں، بازاروں اور تاریخی مقامات میں سانس لیتا محسوس کرتا ہے۔

مہمانانِ گرامی اور تقاریر کی جھلکیاں
محفل کی میزبانی سراج نرسی نے نہایت عمدگی سے انجام دی، جبکہ نظامت غضنفر ہاشمی کے حصے میں آئی، جنہوں نے پورے پروگرام کو شائستگی اور وقار سے آگے بڑھایا۔ صدارت معروف ادبی شخصیت مجید اختر نے کی، جبکہ بشیر قمر کو بطورِ مہمانِ خصوصی بھرپور تالیوں کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔
مختلف مقررین نے کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک قیمتی ادبی خزانہ قرار دیا:
تسنیم قمر نے مصنف کے ادبی سفر اور تخلیقی مزاج پر روشنی ڈالی۔
جلالی صاحب نے قاہرہ کے تاریخی و ثقافتی پہلوؤں پر بات کی، جو کتاب میں نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیے گئے ہیں۔
زاہد بابر نے اس بات پر زور دیا کہ کتاب نے جنوبی ایشیائی قارئین کو مشرق وسطیٰ کی ثقافت سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔
ذیشان مرزا نے اس قسم کے ادبی کاموں کو بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

ہیوسٹن کے لیے ایک ثقافتی سنگِ میل
PAGH کا "کتاب اور چائے” سلسلہ ہیوسٹن میں اردو ادب اور ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک کامیاب پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس تقریب نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ یہ ادارہ نہ صرف ادب کی خدمت کر رہا ہے، بلکہ نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
محفل کا اختتام شکریہ کے کلمات اور کتاب پر دستخط کی نشست کے ساتھ ہوا، جہاں شرکاء نے بشیر قمر سے ملاقات کی اور کتاب کے چند اوراق ان کی زبانی سننے کا موقع پایا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ تقریب محض ایک رونمائی نہیں تھی، بلکہ اپنی شناخت، زبان، اور تخلیقی اظہار کا جشن تھی۔
Photos By : Americanurdu.tv




