پاکستان کے 78 ویں یومِ آزادی کے موقع پر صدرِ پاکستان نے محمد سعید شیخ کو ان کی 45 سالہ بے مثال خدمات کے اعتراف میں ستارۂ خدمت سے نوازا۔ یہ اعزاز اُن کی انسانیت اور وطن کے لیے طویل جدوجہد کا روشن سنگِ میل ہے۔
انیس سو اسی کی دہائی میں نوجوان رضاکار کے طور پر خدمت کے سفر کا آغاز کرنے والے سعید شیخ آج ہیوسٹن۔کراچی بہن شہر ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف انسانی ہمدردی اور فلاحی خدمات میں پیش پیش رہے ہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

سن دو ہزار گیارہ میں انہوں نے قدرتی آفات کے لیے اتحاد برائے امداد قائم کیا، جس کے ذریعے چالیس سے زائد تنظیموں کو یکجا کر کے کروڑوں روپے کی امداد فراہم کی گئی۔ یہ امداد کورونا وبا، دو ہزار بائیس کے پاکستان کے تباہ کن سیلاب، تھر کے قحط، ہیوسٹن کے طوفان اور برفباری جیسے مشکل اوقات میں متاثرہ افراد تک پہنچی۔ ان کی کاوشوں سے اب تک ایک لاکھ سے زائد انسانوں کی زندگیاں بہتر ہوئیں—چاہے وہ راشن کی تقسیم ہو، ادویات اور طبی سامان کی فراہمی یا پکے گھروں کی تعمیر۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں بھی ان کا کردار غیر معمولی ہے۔ ان کی قیادت میں منعقد ہونے والا ہیوسٹن میئر کا سالانہ افطار ڈنر آج امریکا کا سب سے بڑا بین المذاہب اجتماع مانا جاتا ہے، جو اتحاد اور باہمی احترام کی شاندار علامت ہے۔
ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں شامل ہیں: امریکی صدر کا عمر بھر کی خدمات کا ایوارڈ (دو ہزار اٹھارہ)، سسٹر سٹیز انٹرنیشنل کا سال کا بہترین رضاکار ایوارڈ (دو ہزار اکیس)، گلوبل رہنما برائے اثرورسوخ ایوارڈ (دو ہزار بائیس)، گلوبل سات نمایاں انسان دوست ایوارڈ (دو ہزار تئیس) اور ایک دنیا ایوارڈ (دو ہزار چوبیس)۔

ستارۂ خدمت پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک ہے جو اُن شخصیات کو دیا جاتا ہے جو قوم اور انسانیت کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ یہ اعزاز نہ صرف محمد سعید شیخ کی زندگی بھر کی جدوجہد کا اعتراف ہے بلکہ ہیوسٹن کی پاکستانی برادری اور دنیا بھر کے پاکستانیوں کے لیے بھی فخر کا لمحہ ہے۔جدوجہد کا اعتراف ہے بلکہ ہیوسٹن کی پاکستانی کمیونٹی اور دنیا بھر کے پاکستانیوں کے لیے بھی فخر کا لمحہ ہے۔




