ہیوسٹن، امریکہ سے افسوسناک خبر ہے کہ پاکستان بیس بال ٹیم کے نوجوان کھلاڑی لانس خان ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر صرف 21 سال تھی۔ لانس خان نے 2023 میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے لنکن کپ کے ایک میچ میں حصہ لیا تھا۔ وہ میدان میں آؤٹ فیلڈ کی پوزیشن پر کھیلتے تھے اور اپنے غیرمعمولی کھیل اور عزم کے باعث کوچز اور ساتھی کھلاڑیوں کے دل جیت لیتے تھے۔ پاکستان بیس بال فیڈریشن کے صدر فخر شاہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لانس خان اتوار کی صبح ہیوسٹن میں پیش آنے والے ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے۔ فخر شاہ نے کہا:
"لانس پاکستان کے بیرون ملک موجود ان نوجوان ٹیلنٹ میں شامل تھے جنہوں نے قومی ٹیم میں شمولیت سے ملک کا نام روشن کیا۔ اُن کا جذبہ، لگن اور صلاحیتیں ناقابلِ فراموش ہیں۔”

لانس خان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے پاکستان کے لیے بیس بال میں خدمات انجام دی ہیں—ان کے بھائی پیئرس خان بھی پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کا حصہ ہیں۔ لانس خان نہ صرف ایک باصلاحیت کھلاڑی تھے بلکہ حال ہی میں کینسر کو شکست دینے کے بعد دوبارہ میدان میں لوٹے تھے۔ ان کی واپسی نے ان کے دوستوں، کوچز اور فینز کو بے حد متاثر کیا، اور وہ ایک حوصلے اور ہمت کی علامت بن گئے۔حادثے میں ان کا ایک قریبی دوست بھی زخمی ہوا، جس کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ اس غمناک موقع پر گو فنڈ می پر لانس خان کے اہلخانہ کی مالی مدد کے لیے ایک صفحہ قائم کیا گیا ہے تاکہ تدفین اور یادگاری اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

امریکہ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں، کوچز، فینز اور دوستوں نے سوشل میڈیا پر ان کے لیے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ یونیورسٹی آف سینٹ تھامس (UST) کی بیس بال ٹیم نے اپنے جذباتی پیغام میں کہا:
"تم ہمیشہ ہمارے ساتھ رہو گے، نمبر 4۔ تمہاری توانائی، خوش مزاجی اور ساتھیوں سے محبت وہ چیزیں تھیں جو سکھائی نہیں جا سکتیں۔ تمہاری آواز ہمیشہ ڈگ آؤٹ میں گونجے گی۔ ہم تم سے محبت کرتے ہیں، لانس۔ سکون سے سو جاؤ۔” لانس خان کی زندگی اگرچہ مختصر رہی، لیکن ان کی کہانی ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلے، لگن اور جذبے کی مثال بن گئے ہیں۔




