ٹرمپ انتظامیہ نے 13 مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر نئی سفری اور ویزا پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ان ممالک میں پاکستان، افغانستان، ایران، لیبیا، فلسطین، عراق، سوڈان، صومالیہ، شام اور لبنان شامل ہیں۔ یہ ایگزیکٹو آرڈر 13 مارچ کو نافذ ہونے کا امکان ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس سامنے آنے کے بعد ہوسٹن سمیت مختلف امریکی شہروں میں مقیم ایشیائی اور مسلم باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے “نیا مسلم بین” قرار دے دیا اور قانونی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس فیصلے پر سخت عوامی ردعمل اور امریکی قانون سازوں کی مخالفت متوقع ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس اقدام کے بعد اگلے ہفتے سے افغان اور پاکستانی باشندے امریکا میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ یہ اقدام ریپبلکن صدر کی طرف سے پہلی مدت کے دوران 7 مسلم اکثریتی ممالک کے مسافروں پر پابندی کے بعد سامنے آیا ہے، یہ پالیسی 2018 میں امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے برقرار رکھنے سے قبل کئی بار دہرائی گئی تھی۔ سابق صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اس پابندی کو ختم کرتے ہوئے اسے قومی ضمیر پر داغ مانا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس میں قومی سلامتی کے خطرات کا پتا لگانے کے لیے امریکا میں داخلے کے خواہش مند کسی بھی غیر ملکی کی سیکیورٹی جانچ پڑتال کو اور تیز کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ٹرمپ کی یہ ہدایت امیگریشن کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جو انہوں نے اپنی دوسری مدت کے آغاز میں شروع کیا تھا۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں یہ بھی آیا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسرائیل مخالف پوسٹس پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ حکام پوسٹس، کمنٹس اور شیئرز پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرتا ہے تو اس کا قانونی اسٹیٹس خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ فوکس نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے ایک ایسے طالب علم کا ویزا منسوخ کر دیا ہے، جس نے مبینہ طور پر حماس کی حمایت میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا تھا، رپورٹ کے مطابق یہ اس طرح کی پہلی کارروائی ہے۔ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ’کیچ اینڈ ریوینٹ‘ مہم میں ہزاروں طالب علموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے جائزے شامل ہوں گے۔ ہوسٹن میں رہائش پذیر مسلم اور ایشیائی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات آزادی رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہیں۔
پلس اور پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کا تاریخی سنگ میل
ایک خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ پلس نے پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کے ساتھ مل کر...




