قائداعظم فاؤنڈیشن کے زیراہتمام جشنِ آزادی کی شاندار اور پرجوش تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے قیام اور قائداعظم محمد علی جناح کے افکار کو اجاگر کیا گیا۔ اس تقریب کی میزبانی فاؤنڈیشن کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر آصف قدیر نے کی، جبکہ فاؤنڈیشن کے پیٹرن اِن چیف ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی، معروف ٹی وی اینکر انیق احمد، ایمبیسڈر سادا قنمبر، آغاز ریسٹورنٹ کے مالک شوکت میمڈیرا اور نوجوان یوتھ لیڈر عریشہ فیصل مقررین تھے۔

تقریب میں نوجوانوں، بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ڈاکٹر آصف قدیر نے اپنے خطاب میں قائداعظم فاؤنڈیشن کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی زندگی کا مقصد قائداعظم کے مشن کو زندہ رکھنا اور ان کی کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ ائیر کموڈور خالد چشتی نے قائداعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کو آج کے حالات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ہمیں اُن کے اقوال کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

ایمبیسڈر سادا قنمبر نے تقریب میں اپنے والد کی جانب سے تحریکِ پاکستان کے دوران کھینچی گئی نایاب تصاویر پیش کیں، جنہوں نے شرکاء کو ماضی کی سنہری یادوں میں لے جایا۔ انہوں نے زور دیا کہ قائداعظم نے ایک ایسا پاکستان بنایا جہاں اقلیتوں کو بھی برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

انیق احمد نے قرآن و سنت کی روشنی میں قیامِ پاکستان کے مقاصد اور قائداعظم کی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ تقریب کا مرکزی کردار یوتھ لیڈر عریشہ فیصل تھیں، جنہوں نے قائداعظم اور نوجوانوں کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اس کی مضبوطی تک نوجوانوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تقریب نہ صرف ایک یادگار جشنِ آزادی ثابت ہوئی بلکہ اس نے شرکاء کے دلوں میں قائداعظم کے نظریات اور پاکستان سے محبت کو مزید گہرا کر دیا۔





