Houston Tribune

  • شہر نامہ
  • ثقافتی چوک
  • قانونی نکتہ
  • نوجوان نسل
  • رہنمائی
  • کلینڈر
  • شخصیات
  • ویڈیوز
  • English
Home شہر نامہ

ہیوسٹن کے اسکول میں “رمضان مبارک” ڈسپلے ہٹانے پر تنازع

webdesk by webdesk
مارچ 7, 2026
in شہر نامہ
ہیوسٹن کے اسکول میں “رمضان مبارک” ڈسپلے ہٹانے پر تنازع
Share on FacebookShare on Twitter

ہیوسٹن کے بنکر ہِل ایلیمنٹری اسکول کے داخلی دروازے سے اس ہفتے رمضان کی سجاوٹ ہٹا دی گئی۔ اسپرنگ برانچ انڈیپنڈنٹ اسکول ڈسٹرکٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ سجاوٹ ضلع کی سیاسی اور مذہبی غیر جانبداری کی پالیسی کے خلاف تھی۔ اسکول بورڈ نے یہ پالیسی 2022 کے موسمِ گرما میں منظور کی تھی۔ ضلعی ترجمان میلیسا وائلینڈ کے مطابق جب حکام کو معلوم ہوا کہ ایک ایلیمنٹری اسکول میں مذہبی تہوار سے متعلق سجاوٹ لگائی گئی ہے تو انہوں نے کیمپس انتظامیہ کو اسے ہٹانے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسکول میں کسی اور تہوار کی سجاوٹ موجود نہیں ہے۔ ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ لنڈا بُک مین نے بتایا کہ ایک والدین نے اس معاملے کی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ سجاوٹ ضلعی غیر جانبداری کی پالیسی کے مطابق نہیں ہے۔

سجاوٹ میں ہلال کی شکل کے غبارے اور “رمضان مبارک” کے چار بینر شامل تھے۔ یہ انتظام پیرنٹ ٹیچر ایسوسی ایشن کی ثقافتی آگاہی کمیٹی نے 17 فروری سے شروع ہونے والے مسلم مقدس مہینے رمضان سے چند دن پہلے کیا تھا۔ کمیٹی کی سربراہ کیسی کاف الغزال، جو مسلمان ہیں، نے بتایا کہ کمیٹی کو گزشتہ تعلیمی سال کے اختتام پر باقاعدہ شکل دی گئی تھی۔ اس سے پہلے بھی یہ گروپ مختلف تہواروں کے موقع پر چھوٹی سجاوٹ کا اہتمام کرتا رہا ہے۔ کاف الغزال کے مطابق انہوں نے اس تعلیمی سال میں دیگر مذہبی تہواروں جیسے ہنوکا، کرسمس اور ایسٹر کے لیے بھی سجاوٹ کا اہتمام کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد یہ تھا کہ تمام بچوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی شناخت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کی کمیونٹی عموماً ان کوششوں کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم سجاوٹ ہٹائے جانے پر وہ حیران رہ گئیں۔ ان کے مطابق وہ اسکول کی مقامی انتظامیہ کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتیں۔

ramzan 1

ان کا کہنا تھا کہ ضلع کا مؤقف ہے کہ چاکلیٹ کے خرگوش، ایسٹر کے انڈے اور کرسمس ٹری مذہبی علامات نہیں ہیں، جبکہ ہلال اور اس جیسی سجاوٹ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے اس فیصلے کے وقت کو بھی مشکوک قرار دیا اور کہا کہ قمری نئے سال یا ہنوکا کی تقریبات پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، مگر رمضان پر مسئلہ اٹھایا گیا۔ ادھر قدامت پسند کارکنوں کی قومی تنظیم ممز فار لبرٹی کے ہیرس کاؤنٹی باب نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس سجاوٹ کے بارے میں انسٹاگرام پر پوسٹ کی، جسے اس کے 625 فالوورز نے دیکھا۔ اس پوسٹ میں “گو ٹیکسن ڈے” کی تقریبات کے دوران اسکول میں مذہبی نوعیت کی سجاوٹ پر تنقید کی گئی۔ تنظیم کی مقامی چیئر ڈینیز بیل نے کہا کہ انہیں یہ تصاویر دو مختلف ذرائع سے ملیں جو ممکنہ طور پر اسکول کے والدین تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ تصاویر براہ راست اسکول ڈسٹرکٹ کو نہیں بھیجیں اور نہ ہی حکام نے ان سے رابطہ کیا۔ ڈینیز بیل نے کہا کہ ان کی تشویش اس بات پر تھی کہ اسکول میں کسی ایک مذہب کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کرسمس ٹری یا ایسٹر کے انڈوں کی نمائش پر اعتراض کیوں نہیں کیا جاتا تو انہوں نے کہا کہ یہ تہوار اب زیادہ تر ثقافتی اور غیر مذہبی شکل اختیار کر چکے ہیں، اور خرگوش یا انڈوں جیسی علامات کو مذہبی نہیں بلکہ موسمی یا ثقافتی علامت سمجھا جاتا ہے۔

کاف الغزال نے ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اصول کو تسلیم کیا، مگر سوال اٹھایا کہ کیا اس اصول کو ہر جگہ یکساں طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی یہ اصول لاگو کرنا ہے تو اسے بغیر کسی استثنا کے سب پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے، نہ کہ کرسمس ٹری، ایسٹر بنی یا کنڈرگارٹن کی انڈے تلاش کرنے والی تقریبات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید بحث کا باعث بن گئی جب ضلع نے حال ہی میں سینیٹ بل 10 کے تحت اقدامات کیے۔ گزشتہ موسمِ گرما میں منظور ہونے والے اس ریاستی قانون کے مطابق سرکاری اسکولوں کی کلاس رومز میں کنگ جیمز بائبل سے لیے گئے “ٹین کمانڈمنٹس” کے پوسٹر آویزاں کرنا لازمی ہے۔

ramzan 3

اس ہفتے کے آغاز میں اسپرنگ برانچ آئی ایس ڈی کے ٹرسٹیز نے ایک والدین کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یا تو ان پوسٹروں کو ہٹا دیا جائے یا دیگر مذاہب کی تعلیمات کو بھی شامل کیا جائے۔ ضلع کو ریاستی قانون پر عمل کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ اس قانون کی آئینی حیثیت اس وقت پانچویں امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں زیرِ غور ہے۔ امریکی شہری آزادیوں کی تنظیم اے سی ایل یو سمیت کئی سول رائٹس گروپس نے ٹیکساس کے مختلف اسکول اضلاع کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ قانون آئین کی پہلی ترمیم کے تحت مذہبی آزادی کے تحفظات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ایک وفاقی جج نے بعض علاقوں میں اس قانون کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا ہے، تاہم اسپرنگ برانچ آئی ایس ڈی اس مقدمے کا حصہ نہیں ہے، اسی لیے یہ ضلع فی الحال ریاستی قانون پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

Related Posts

fb img 179006393385022
City Chronicle

ہیوسٹن شپ چینل کی معاشی اہمیت اجاگر، بنیادی ڈھانچے میں مسلسل سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار

ہیوسٹن: ہیوسٹن شپ چینل کو شہر اور ریاست ٹیکساس کی معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے صنعتی شعبے کے...

by webdesk
ستمبر 22, 2026
fb img 178989513848737
شہر نامہ

ہیوسٹن میں نیشنل ایشین امریکن ایوانِ تجارت کی سالانہ کانفرنس، 700 سے زائد کاروباری رہنماؤں اور ماہرین کی شرکت

ہیوسٹن: نیشنل ایشین و پیسیفک آئی لینڈر امریکن چیمبر آف کامرس اینڈ انٹرپرینیورشپ کے زیرِ اہتمام 2026 کی سالانہ کانفرنس...

by webdesk
ستمبر 20, 2026
fb img 1789918440348 (1)
شہر نامہ

ہیوسٹن میں کراچی کانفرنس، پاکستان میں میڈیکل ٹورازم کے مستقبل پر اہم تبادلۂ خیال

ہیوسٹن: پاکستان میں میڈیکل ٹورازم کے مستقبل، صحت کے شعبے میں نئے مواقع، افرادی قوت کی ترقی اور بین الاقوامی...

by webdesk
ستمبر 20, 2026
fb img 178971719548304
شہر نامہ

یوسٹن لائیو اسٹاک شو اینڈ روڈیو کی تاریخ کی سب سے بڑی سہولتی سرمایہ کاری، ہائی وے 288 کے ساتھ نئے زرعی کمپلیکس کا سنگِ بنیاد

ہیوسٹن: ہیوسٹن لائیو اسٹاک شو اینڈ روڈیو نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سہولتی سرمایہ کاری کا آغاز کرتے...

by webdesk
ستمبر 18, 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Facebook Instagram

لنکس

  • ہوم
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
  • رازداری کی پالیسی

کیٹیگریز

  • شہر نامہ
  • ثقافتی چوک
  • قانونی نکتہ
  • نوجوان نسل
  • رہنمائی
  • کلینڈر
  • شخصیات
  • ویڈیوز

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہیں۔

No Result
View All Result
  • شہر نامہ
  • ثقافتی چوک
  • قانونی نکتہ
  • نوجوان نسل
  • رہنمائی
  • کلینڈر
  • شخصیات
  • ویڈیوز
  • English

© 2025 Houston Tribune