دی بریئر کلب میں منعقد ہونے والا لُونر نیو ایئر گالا محض ایک ثقافتی یا سماجی تقریب نہیں تھا، بلکہ یہ ایشیائی پیسفک کمیونٹی کی منظم سیاسی سوچ، اتحاد اور بڑھتی ہوئی سیاسی پختگی کا بھرپور اظہار تھا۔ ایشین ٹیکسنز فار جسٹس ایکشن فنڈ کے زیرِ اہتمام اس تقریب نے ثقافت، شعور اور سیاسی عزم کو ایک ہی اسٹیج پر یکجا کر دیا، جو ایک باشعور اور پُرعزم کمیونٹی کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریب کے نمایاں لمحات میں کانگریس مین ال گرین کی پُروقار اور مقصد سے بھرپور تقریر شامل تھی۔ ان کے خیالات نے سیاسی شمولیت کی اہمیت کو مزید مضبوط کیا۔ جون بو کی موجودگی اور خطاب نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ ایشیائی پیسفک کمیونٹی اب ریاستی سیاست میں ایک سنجیدہ اور منظم قوت کے طور پر ابھر چکی ہے۔

سان انتونیو کی میئر جینا جونز کی شرکت اور خطاب نے تقریب کو مزید اہمیت بخشی۔ ان کی گفتگو میں شمولیت، شراکت داری اور مشترکہ سیاسی مستقبل پر اعتماد نمایاں تھا، جس سے اجتماع میں یکجہتی کا احساس مزید مضبوط ہوا۔ نبیلہ منصور نے تقریب کی روح اور سمت کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی تقریر نے واضح حکمتِ عملی اور رہنمائی فراہم کی، جس میں ایشیائی پیسفک کمیونٹی کی موجودہ حیثیت اور آئندہ کا راستہ واضح انداز میں بیان کیا گیا۔ وسیع ایشیائی پیسفک آئی لینڈر کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پاکستانی نژاد کمیونٹی کی نمایاں اور متحرک موجودگی بھی دیکھنے میں آئی، جو فعال شہری اور سیاسی شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کی ممتاز شخصیات میں اے جے درانی، نبیلہ منصور، صوفیہ شیخ، عبدالرؤف خان، اعظم اختر، اے رحمان پٹیل، قیصر امام، شہاب علوی، عامر سبزواری اور صبیحہ صدیقی شامل تھیں، جبکہ دیگر کئی معزز کمیونٹی رہنما اور ساتھی بھی ہال میں موجود تھے جنہوں نے اس اجتماعی کوشش میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس موقع پر کئی نمایاں شخصیات کو ان کی قیادت، خدمات اور کمیونٹی کی بہتری کے اعتراف میں اعزازات سے بھی نوازا گیا، جو حوصلہ افزائی اور ذمہ داری کے جذبے کو مزید تقویت دیتا ہے۔

گالا ایک متاثر کن اور مضبوط اختتام پر پہنچا، جہاں عطیات کے ذریعے خاطر خواہ رقم جمع کی گئی۔ یہ فنڈز آئندہ انتخابات میں حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیے جائیں گے، جن میں ووٹر آؤٹ ریچ، فون بینکنگ، کالنگ اور پیغام رسانی کی مہمات شامل ہیں۔




