پاکستان کے قونصل جنرل آفتاب چوہدری سے نوجوان کشمیری محقق اور مصنف سعود سلطان نے ملاقات کی، جنہوں نے اپنی کتاب “جموں و کشمیر: دی فارگاٹن نیریٹو” کا دستخط شدہ نسخہ انہیں پیش کیا۔ملاقات کے دوران سعود سلطان نے اپنی تحقیق پر مبنی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کی یہ کتاب تاریخی دستاویزات اور بنیادی ذرائع پر مبنی ایک جامع علمی کاوش ہے، جس میں جموں و کشمیر کے تنازع سے متعلق دبائے گئے حقائق اور نظر انداز کیے گئے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ سعود سلطان نے وضاحت کی کہ ان کی تحقیق بھارت کے سرکاری اور گمراہ کن بیانیے کو چیلنج کرتی ہے، جو طویل عرصے سے جموں و کشمیر کے مسئلے کو مسخ شدہ انداز میں پیش کرتا آیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی حقائق، عینی شہادتوں اور بین الاقوامی وعدوں کا ازسرِنو جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ تنازعِ کشمیر کی اصل نوعیت اور کشمیری عوام کی حقیقی خواہشات دنیا کے سامنے لائی جا سکیں۔

قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے نوجوان مصنف کی علمی کاوش کو سراہا اور ان کے جذبے کی تعریف کی کہ وہ کشمیری عوام کی حقیقی جدوجہد کو مستند انداز میں دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی علمی تحقیقات کشمیریوں کے موقف کو تقویت دیتی ہیں اور عالمی سطح پر ایک درست فہم پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔آفتاب چوہدری نے اس موقع پر پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعود سلطان جیسے محققین کی تحقیقی کوششیں خطے سے متعلق حقائق کو اجاگر کرنے اور عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔




