پاکستان اور امریکہ کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیشرفت کے طور پر، معروف پاکستانی صنعتکار اور ستارہ کیمیکل انڈسٹریز کے سی ای او محمد ادریس کا حالیہ دورہ ہیوسٹن میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔

اپنے کاروباری تجربے اور فلاحی خدمات کے لیے جانے جانے والے محمد ادریس، عزیز فاطمہ اسپتال، میڈیکل یونیورسٹی اور ڈینٹل کالج جیسے اداروں کے بانیوں میں شامل ہیں، جو فیصل آباد میں عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
اس وقت وہ فیصل آباد میں عزیز فاطمہ سپر اسپیشلٹی اسپتال کی تعمیر کی نگرانی کر رہے ہیں، جو کہ ایک جدید 17 منزلہ اسپتال ہے، اور ان شاء ﷲ رواں سال کے آخر تک فعال ہو جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس کی پہلی دو منزلیں، جن میں بنیادی شعبے شامل ہیں، جلد کھولی جا رہی ہیں۔
اس منصوبے کی معاونت کے لیے مارفانی فاؤنڈیشن USA اور میڈیکل بریجز نے مشترکہ طور پر ضروری طبی سامان فراہم کرنے کے لیے شراکت داری کی ہے۔ اسپتال کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق 40 فٹ کے کنٹینرز میں طبی بیڈز، تشخیصی مشینیں، اور سرجیکل آلات مرحلہ وار پاکستان بھیجے جائیں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام معاشی طبقات کے مریضوں کو عالمی معیار کی صحت کی سہولیات میسر ہوں۔
یہ دورہ صرف ایک رسمی تقریب نہیں تھا بلکہ ایک طویل مدتی اور حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داری کی بنیاد تھا، جس کا مقصد پاکستان میں صحت کی سہولیات کو عالمی تعاون اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے بہتر بنانا ہے۔

اس کامیاب دورے کو ممکن بنانے میں لائن ازہر احمد (PMJF)، چیئرمین پاکستان ویلفیئر پروجیکٹ (مارفانی فاؤنڈیشن USA)، اور عبدالرحمٰن پٹیل، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی مسلسل محنت اور تعاون نے اس مہم کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا۔
دورے کے دوران، محمد ادریس نے میڈیکل بریجز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں تنظیم کے آپریشنز، لاجسٹک نظام اور میڈیکل انوینٹری کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے ادارے کی وژن اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے، پاکستان میں صحت کے اداروں کے لیے ایک پائیدار شراکت داری قائم کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

آخر میں، مارفانی فاؤنڈیشن کے سی ای او محمود مارفانی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جو اس وقت صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، مگر ان کا وژن اور قیادت دونوں ممالک میں جاری ان فلاحی کاوشوں کی اصل تحریک بنے ہوئے ہیں۔ ان کی ہمدردی، خدمت اور قیادت پر مبنی سوچ آج بھی اس مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔




