رپورٹ : مقصود حسین
تصاویر:امریکن اردو ڈاٹ ٹی وی
جب بھی تاریخ قوموں کی عظمت کا باب رقم کرتی ہے، وہ صرف ہتھیاروں کی جھنکار سے نہیں بلکہ قربانیوں، اتحاد، اور حق پر یقین کے جذبے سے روشن ہوتی ہے۔ ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ نے ایسا ہی ایک قابلِ فخر لمحہ یومِ تشکر کی صورت میں منایا، جو بھارتی جارحیت کے خلاف قوم کے عزم، جذبے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت پر شکرانے کی علامت تھا۔ تقریب کا سب سے روح انگیز لمحہ اس وقت آیا جب قونصل جنرل آفتاب شیخ نے قومی ترانے کی پرجوش گونج میں سبز ہلالی پرچم کو بلند کیا۔ یہ پرچم محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ شہیدوں کے لہو، غازیوں کے حوصلے، اور قوم کے ایمان کی جیتی جاگتی علامت ہے۔ اُس لمحے فضا میں صرف نغمہء وطن نہیں، بلکہ شہداء کی روحوں کا تقدس بھی محسوس کیا جا رہا تھا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی روحانی روشنی نے ماحول کو پاکیزگی سے بھر دیا۔تقریب کا ایک اہم اور پُراثر پہلو شہداء کے لیے دعا تھی۔ وہ سپوت جنہوں نے سرحدوں پر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر جامِ شہادت نوش کیا، اُن کی یاد میں اشکبار آنکھوں سے اُٹھے ہوئے ہاتھ، اس قوم کے شکر گزار دلوں کا اظہار تھے۔ عام شہریوں کی قربانیاں بھی برابر یاد کی گئیں، جنہوں نے خاموشی سے تکلیفیں برداشت کیں مگر وفاداری سے ایک لمحے کو بھی پیچھے نہ ہٹے۔ تقریب میں ہیوسٹن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات موجود تھیں۔ عامر زیدی، تنویر احمد، ڈاکٹر آصف قدیر، سراج نارسی، سعید شیخ سمیت دیگر معزز عمائدین کی موجودگی اس بات کا اعلان تھی کہ وطن سے محبت سرحدوں کی محتاج نہیں۔ ہر پاکستانی دل، چاہے وہ کہیں بھی ہو، پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔

پاکستانی کمیونٹی کے ان اہم رہنماؤں نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔ جن کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر ثابت کیا کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔قونصل جنرل آفتابچودھری نے ہیوسٹن ٹربیون اور امریکن اردو ڈاٹ ٹی وی سے گفتگو میں نہایت جذباتی اور ولولہ انگیز انداز میں کہا کہ آج ہم اس عظیم دن کو یومِ تشکر کے طور پر مناتے ہیں تاکہ ربِ ذوالجلال کا شکر ادا کریں، جس نے ہمیں نہ صرف اپنی سرزمین کے دفاع کی توفیق دی بلکہ ہمیں دشمن کے مقابل سینہ تان کر کھڑے رہنے کا حوصلہ بھی عطا فرمایا۔ یہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، قوم کی دعاؤں، اور ایمان کی طاقت تھی جس نے باطل کو شکست دی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک نظریے کا نام ہے، اور اس نظریے کی حفاظت ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔

تقریب کا اختتام قومی یکجہتی، شکر گزاری اور عزمِ نو کے ساتھ ہوا۔ شرکت کرنے والوں نے نہ صرف شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا بلکہ اس عہد کی بھی تجدید کی کہ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری، اور نظریاتی بنیادوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔یہ دن نہ صرف ایک جشنِ فتح تھا بلکہ ایک نیا حوصلہ، ایک نیا عہد، اور آنے والے کل کے لیے امید کی شمع بھی۔





