ہیوسٹن ایسوسی ایشن آف ریئلٹرز کا کہنا ہے کہ یہ وقت رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے خریداروں اور فروخت کرنے والوں کے لیے بہترین ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق مارکیٹ میں یہ تبدیلی موجودہ سود کی شرح میں معمولی کمی، ہاؤسنگ انوینٹری میں اضافے اور موسم بہار کے آغاز کی وجہ سے ہے۔ ہیوسٹن ایسوسی ایشن کی چیئر-الیکٹ، کیٹ رابنسن کا کہنا ہے کہ موجودہ سود کی شرحیں کم ہو رہی ہیں۔ یہ کمی بہت زیادہ نہیں ہے، لیکن جب 30 سالہ رہن پر بات ہو تو ہر چوتھائی پوائنٹ کی کمی تیزی سے اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس لیے، ہمارے موجودہ خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ موسم بہار کا وقت ہے، اور یہ وہ وقت ہے جب لوگ منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہاؤسنگ کے فیصلے اور تبدیلیاں اسکول کے سال کے اختتام سے پہلے مکمل ہوں تاکہ وہ اپنی گرمیاں انجوائے کر سکیں۔ رابنسن نے نشاندہی

کی کہ ہیوسٹن میں ہاؤسنگ کی حالت اب کورونا وبا دور کے بیچنے والوں کی مارکیٹ کی عکاسی نہیں کرتی، جو جزوی طور پر سود کی شرح میں اضافے کی وجہ سے تھی۔ 2020 اور 2021 کے درمیان، ہیوسٹن کے علاقے میں دستیاب گھروں کی تعداد کے مقابلے میں ممکنہ خریداروں کی تعداد زیادہ تھی۔ اب کئی خریداروں کی ایک مختصر فہرست کے لیے مقابلہ نہیں ہے، اور سود کی شرحیں کم ہو گئی ہیں۔ ہیوسٹن کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے ابھی تک 5-6 ماہ کی ہاؤسنگ انوینٹری تک نہیں پہنچا ہے، جو تاریخی طور پر خریداروں کی مارکیٹ کا نشان ہے۔ رابنسن کے مطابق اب گھر خریدنے کا بہترین وقت ہے کیونکہ گھر کی ملکیت وراثتی دولت کے امکان کو پیدا کرتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستانی یا ایشیائی کمیونٹی کے لیے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ ناصرف ہیوسٹن میں اپنی اراضی کو فروخت کرکے قابل قدر آمدنی حاصل کریں ساتھ ہی دوسرے شہروں سے ہیوسٹن کا رخ کرنے والے بھی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔





