امریکہ میں مسلم شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سب سے بڑی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلشیز( سی اے آئی آر ) نے یہ نیا سفر انتباہ جاری کیا ہے۔ جس میں قانونی طور پر امریکہ میں مقیم مستقل رہائشیوں، طلبہ، مزدوروں اور دیگر ویزا ہولڈرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اگلے 30 دن کے دوران امریکہ سے باہر سفر کرنے سے گریز کریں۔ یہ انتباہ ان افراد کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو ان ممالک کے شہری ہیں جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع نئی سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ممکنا طور پر متاثرہ ممالک
متوقع سفری پابندی میں پاکستان، افغانستان، عراق، ایران، لیبیا، فلسطین غزہ، ، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے وفاقی اداروں کو 21 مارچ 2025 تک ایک رپورٹ وائٹ ہاؤس میں جمع کرانے کی ہدایت دی ہے، جس میں ان ممالک کی نشاندہی کی جائے گی جن کی ویزا جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو "ناکافی” سمجھا جا رہا ہے۔ ایگزیکٹو آرڈر 14161 کے تحت اس رپورٹ کی بنیاد پر نئی سفری پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے، جو کئی مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک سکتی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی شہریوں کو بھی ممکنہ طور پر پابندی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے بعد سی اے آئی آر نے پاکستانی نژاد طالب علموں، ورکرز، سیاحوں اور میڈیکل ویزے پر موجود افراد کو بھی سفری احتیاط کی تاکید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر امریکہ میں موجود مستقل رہائشیوں کو عام طور پرامریکا میں دوبارہ داخلے کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن 2017 میں صدر ٹرمپ کے پہلے مسلم بین کے دوران قانونی طور پر مقیم مستقل باشندوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جسے بعد میں عدالتوں نے معطل کردیا تھا۔
احتیاطی اقدامات کیا کیے جاسکتے ہیں؟
سی اے آئی آر نے ممکنا سفری پابندی کے پیش نظر امریکہ میں مقیم افراد کو درج ذیل حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے:
اگر آپ کسی ایسے ملک کے شہری ہیں جسے پابندی کی زد میں لایا جاسکتا ہے تو فوری طور پر امیگریشن ماہرین سے قانونی مشورہ لے کر اپنی قانونی پوزیشن کا جائزہ لیں۔ متاثرہ مملک کے شہری ہونے کی صورت میں اگلے ایک ماہ تک امریکا سے باہر کا سفر نہ کریں کیونکہ سفری پابندی نافذ ہونے کی صورت میں واپسی ممکن نہیں ہوپائے گی۔ اپنے تمام اہم دستاویزات محفوظ رکھیں کاپیاں محفوظ مقام پر رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں آپ کے پاس اپنی قانونی حیثیت کا ثبوت موجود ہو۔ امیگریشن حکام کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سامنا کی صورت میں اپنے قانونی حقوق سے واقف ہوں اس سلسلے میں سی اے آئی آر نے حقوق کے متعلق رہنما کتابچہ جاری کیا ہے جو امیگریشن حکام سے نمٹنے کے لیے ضروری رہنمائی دیتا ہے۔
ممکنا پابندی پر سی اے آئی آر کا موقف
سی اے آئی آر نے اس ممکنا سفری پابندی کو ” مسلم بین 2 ” قرار دیتے ہوئے اسے امتیازی اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ سی اے آئی آر حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کے نام پر مسلم اکثریتی ممالک پر مکمل سفری پابندی لگانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ امریکا میں پہلے ہی حساس ممالک کے تارکین وطن کی سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے، اس لیے کسی بھی ملک کے تمام شہریوں پر مکمل پابندی عائد کرنا بلاجواز ہے۔ سی اے آئی آر نے امریکہ میں موجود مسلم اور دیگر اقلیتی کمیونٹیز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس متوقع سفری پابندی کے خلاف آواز اٹھائیں اور امیگریشن قوانین کے ذریعے سیاسی مخالفت کو دبانے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں۔




