ہیوسٹن: امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے متنازع قوانین کے نفاذ اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باعث پاکستانی امریکیوں اور مسلم کمیونٹی کے لیے وسط مدتی انتخابات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس تناظر میں مسلم ووٹرز کی مایوس کن 15 فیصد شرحِ ووٹنگ کو 60 فیصد تک بڑھانے کے لیے خصوصی آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا۔
مہم کا بنیادی مقصد پاکستانی امریکیوں اور دیگر مسلم شہریوں میں ووٹ کے اندراج اور حقِ رائے دہی کے مؤثر استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، تاکہ وہ امریکی سیاسی اور انتخابی عمل میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

ووٹ کی اہمیت کے حوالے سے پاکستانی امریکی رہنماؤں کی جانب سے منعقدہ خصوصی آگاہی سیشن میں کمیونٹی سے اپیل کی گئی کہ تمام اہل امریکی مسلمان اور پاکستانی امریکی 5 اکتوبر تک اپنے ووٹ کا لازمی اندراج مکمل کریں اور آئندہ انتخابات میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔
شرکاء نے کہا کہ مسلم امریکی کمیونٹی کو اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ اور جمہوری عمل میں مؤثر نمائندگی کے لیے انتخابی عمل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ووٹ کا اندراج اور حقِ رائے دہی کا استعمال کمیونٹی کی سیاسی آواز کو مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ ہے۔

مقررین نے کمیونٹی رہنماؤں، نوجوانوں اور رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ ووٹر رجسٹریشن کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کریں اور اہل افراد کو انتخابی عمل کا حصہ بننے کے لیے متحرک کریں۔
تصویر بشکریہ: کامران جیلانی




