ہیوسٹن میں جامعہ کراچی کے سابق طالب علموں کی ایک شاندار بیٹھک ہوئی تو ہر ایک کے ذہنوں میں ماضی کی یادیں ترو تازہ ہوگئیں۔ دیارِ غیر میں بسنے والے یہ سابق طلبہ اپنی مادرِ علمی کے ساتھ صرف یادوں کے رشتے تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اپنا وقت، فکر، وسائل اور عمل استعمال کر کے اس رشتے کو زندہ رکھتے ہیں۔ اس شام کی فنڈریزنگ محض چند عطیات جمع کرنے کی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ اجتماعی شعور، مشترکہ پیغام اور متحدہ نیت کا مظہر تھی۔ صوفیہ صدیقی کی میزبانی نے اس شام کو اور بھی خاص بنایا۔ ان کے نرم لہجے، الفاظ کی روانی اور پروگرام کو مربوط رکھنے کی صلاحیت نے محفل کو محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک مربوط داستان کی شکل دے دی، جہاں ہر لمحہ اگلے لمحے سے خوبصورتی سے جڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

صدر اعظم اختر، جنرل سیکرٹری غلام محی الدین چشتی، اور ڈائریکٹرز عبدل رحمان پٹیل، آفتاب سلاٹ، فیروز احمد، عامر سبزواری، شہاب علوی، سہیل احمد، عبد الرؤف خان اور طاہر وفاقانی اس جذبے کی بہترین مثال ہیں۔ یہ لوگ صرف انتظامی ٹیم نہیں بلکہ علم کے چراغ ہیں جو ہیوسٹن سے کراچی تک کے راستے کو روشن رکھتے ہیں۔ ان کی محنت، یکسوئی اور وژن نے اس انجمن کو ایک تحریک میں بدل دیا ہے۔ ہر وہ شخص جو کبھی جامعہ کراچی کا طالب علم رہا، اس شام محض مہمان نہیں بلکہ اپنی مادرِ علمی کا ذمہ دار وارث تھا۔ ان کے چہروں پر فخر، دلوں میں یادیں اور اندر ایک خاموش عہد تھا کہ وہ اپنی یونیورسٹی کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

یہی جذبہ انہیں عطیات دینے اور ہر سال اس مشن کا حصہ بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ گزشتہ سال اس فنڈریزنگ سے 25 لاکھ روپے، 65 طلبہ تک پہنچے تھے۔ اس سال اسی جذبے، اعتماد اور کمیونٹی کی بھرپور شرکت نے یہ تعداد بڑھا کر 150طلبہ تک پہنچا دی۔ یہ محض فنڈریزنگ نہیں تھی بلکہ اعتماد کا اظہار تھا، جو کمیونٹی نے انجمن پر کیا، اور یقین تھا جس نے ہدف سے بڑھ کر عطیات کو ممکن بنایا۔
تصاویر بشکریہ:- جعفر خان





