ہیوسٹن کے ہائٹس علاقے کے قریب واقع ملالہ یوسفزئی کی دیوار نگاری ایک بار پھر توڑ پھوڑ کا نشانہ بن گئی، جہاں ان کی تصویر پر سفید رنگ پھیر دیا گیا۔ یہ فن پارہ شہر کے ’’منی میورل‘‘ عوامی آرٹ پروگرام کا حصہ ہے اور شیدی ایکرز کے علاقے میں ایسٹ ٹی سی جیسٹر بلیوارڈ پر نصب ایک الیکٹریکل باکس پر بنایا گیا تھا۔ اس باکس پر ملالہ یوسفزئی کا ایک قول بھی تحریر ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’لڑکی کی آواز طاقتور ہوتی ہے اور وہ کمیونٹی میں تبدیلی لا سکتی ہے۔‘‘ یہ تحریر محفوظ رہی، تاہم باکس کے دوسری جانب بنی ملالہ کی تصویر کو جان بوجھ کر سفید رنگ سے ڈھانپ دیا گیا۔ یہ توڑ پھوڑ پیر کے روز نوٹس میں آئی۔ملالہ یوسفزئی پاکستانی خواتین کے حقوق کی علمبردار اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عالمی سطح پر سرگرم کارکن ہیں۔ یہ دیوار نگاری ہیوسٹن کی مقامی آرٹسٹ جیسیکا پیڈیلا نے فروری 2019 میں مکمل کی تھی۔

آرٹسٹ کے مطابق، یہ فن پارہ پہلی بار دو ماہ بعد ہی خراب کر دیا گیا تھا اور مئی 2019 میں دوبارہ نشانہ بنا، جبکہ حالیہ واقعہ اس کی تیسری توڑ پھوڑ ہے۔ جیسیکا پیڈیلا کا کہنا ہے کہ بار بار نقصان پہنچائے جانے کے باوجود انہیں کمیونٹی کی جانب سے بھرپور حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ ان کے مطابق ہر بار جب دیوار نگاری کو نقصان پہنچتا ہے تو لوگ مدد کی پیشکش کرتے اور حوصلہ افزا پیغامات بھیجتے ہیں، جس سے ان کا حوصلہ بلند رہتا ہے۔جب ایک انسٹاگرام صارف نے تازہ توڑ پھوڑ کی نشاندہی کی تو ہیوسٹن سٹی کونسل کی رکن ایبی کیمن، جن کے حلقے میں یہ دیوار نگاری آتی ہے، نے اعلان کیا کہ ان کا دفتر اس کی بحالی کے اخراجات برداشت کرے گا۔ ایبی کیمن کا کہنا تھا کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا کسی کو حق نہیں اور یہ تشویشناک امر ہے کہ خواتین کے اعزاز میں بنائے گئے فن پاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واحد واقعہ نہیں۔ پیڈیلا کی ایک اور دیوار نگاری، جو ہائٹس بلیوارڈ پر امریکی سپریم کورٹ کی چار خواتین ججوں کی تصویر پر مشتمل تھی، 2025 میں توڑ دی گئی تھی۔ اس فن پارے میں سینڈرا ڈے اوکونر، رتھ بیڈر گنزبرگ، سونیا سوٹومایور اور ایلینا کیگن کو دکھایا گیا تھا، جن کے چہروں پر سیاہ رنگ پھیر دیا گیا تھا۔ ایبی کیمن کے مطابق یہ جج مختلف سیاسی جماعتوں کے صدور کی نامزد کردہ تھیں۔ اس واقعے کے بعد، سٹی کونسل کے دفتر نے دیوار نگاری کے معاہدوں میں تبدیلی کی اور اب ان میں تین سال تک گرافٹی اور نقصان کی مرمت کے اخراجات شامل کیے جاتے ہیں، تاکہ آئندہ کسی بھی توڑ پھوڑ کی صورت میں فوری بحالی ممکن ہو سکے۔جیسیکا پیڈیلا نے کہا کہ انہوں نے ملالہ یوسفزئی کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ وہ تعلیم کے لیے بے مثال قربانی اور جرات کی علامت ہیں۔

ملالہ طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہوئیں مگر زندہ بچ گئیں اور آج بھی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ آرٹسٹ کے مطابق یہ دیوار نگاری ملالہ کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، تعلیم کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے اور ناانصافی کے خلاف بولنے کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے اسے کتنی ہی بار نقصان پہنچایا جائے، وہ اسے دوبارہ بناتی رہیں گی۔ ایک پیغام میں جیسیکا پیڈیلا نے کہا کہ بار بار توڑ پھوڑ دراصل مقامی فنکاروں کی مالی مدد کا باعث بن جاتی ہے، کیونکہ بحالی کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، اور اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ حرکت خود ہی بے معنی محسوس ہوتی ہے۔




