ہیوسٹن کے شوگر لینڈ مئی 2025 میں میئر اور سٹی کونسل کے انتخابات کے لیے 20 سے زیادہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایشیائی باشندوں کی بھی ہے جن کا تعلق پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے بتایا جاتا ہے۔ ہیوسٹن میں ایشیائی کیمونٹی بڑی تعداد میں آباد ہیں جو ان الیکشن میں ابھی سے خاصی پرجوش ہیں۔ اب امیدوار چاہے پاکستانی نژاد امریکی ہو یا بھارتی، ان کے حامی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ایشیائی باشندوں کی کوشش ہے کہ اہم عہدوں کے لیے ان کا پسندیدہ امیدوار ہی کامیاب ہو تاکہ وہ ان کے مسائل کو حل کرنے میں غیر معمولی دلچسپی دکھائے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے سیاسیات کے ماہر جیرونیمو کورٹینا کا کہنا ہے کہ اس بار انتخابات میں عوام کی خاصی دلچسپی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ میئر کی خالی نشست ہے جس کے باعث سٹی کونسل کے کئی ارکان نے بھی میئر بننے کے لیے اپنی نشستیں چھوڑ دی ہیں۔
کون کون سے ایشیائی امیدوار مقابلے پر ہیں؟
بات کی جائے میئرکے امیدواروں کی تو یہاں 6 شخصیات اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔ ان میں نوشاد کریملے شامل ہیں جبکہ سرور خان بھی میئر بننے کے امیدوار ہیں۔ دونوں امیدوار مسلم ہیں جو باقی امیدواروں کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں
میئر کی نشست کیوں خالی ہو رہی ہے؟
موجودہ میئر جو زیمرمین اپنی مدت پوری کر چکے ہیں اور مزید انتخاب نہیں لڑ سکتے۔ وہ ایک سٹی کونسل نشست کے لیے امیدوار بنے تھے لیکن فروری میں دستبردار ہو گئے۔
کونسل کی 4 نشستوں پر بھی انتخابات
اس سال شوگر لینڈ میں سٹی کونسل کی 4 نشستوں پر بھی انتخابات ہوں گے۔ ایٹ لارج پوزیشن ون کونسل رکن کے لیے جارج کاکنت قسمت آزما رہے ہیں جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ اسی شعبے میں عقیل ورک اور مظفر وہرہ کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ایٹ لارج پوزیشن ٹو کونسل رکن کے 2 امیدواروں میں سے ایک کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ عامر ملک ہیں۔ ڈسٹرکٹ کونسل 2 کے رکن کے امیدواروں میں ناصر حسین جبکہ ایک بھارتی نژاد امریکی سنجے سنگال شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ 4 کونسل رکن کے الیکشن کے لیے 2 بھارتی نژاد خواتین ڈاکٹر زینت میٹھا اور سپنا پاٹیل قسمت آزما رہی ہیں۔
شہری سیاست میں عوامی دلچسپی میں اضافہ
گزشتہ 10 برسوں میں لوکل گورنمنٹ میں عوام کی دلچسپی بڑھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شوگر لینڈ میں خاص طور پر شہری معاملات پر آگاہی زیادہ ہے، کیونکہ یہاں کے لوگ مختلف رضاکارانہ سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔
انتخابی مہم کے اہم موضوعات
شہری ترقی ، معاشی ترقی اور دیگر قریبی شہروں کے ساتھ تعلقات
اہم انتخابی تاریخیں
ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ 3 اپریل ہے جبکہ ارلی ووٹنگ 22 سے 29 اپریل کو ہوگی۔ جبکہ الیکشن کا دن 3 مئی ہے۔
الیکشن ڈے: 3 مئی
یہ انتخابات شوگر لینڈ کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہوں گے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ شہری ووٹرز کس امیدوار پر اعتماد کرتے ہیں۔ بالخصوص ایسے میں جب ایک بڑی تعداد میں مسلم اور ایشیائی امیدواروں مقابلے پر اترے ہوں۔




