پاکستانی اور ایشیائی کمیونٹی میں سب سے زیادہ مشہور سلویسٹر ٹرنر 70 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ۔ وہ صرف دو ماہ قبل کانگریس میں اپنی پہلی مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ منگل کی رات، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کانگریس سے خطاب کے بعد ٹرنر کو طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی تصدیق ہاؤس ڈیموکریٹک ارکان نے کی۔ وہ پہلے سے ہڈیوں کے کینسر میں مبتلا تھے۔اُن کی ناسازی طبعیت کی اطلاع کیپٹل پولیس کو دی گئی، جنہوں نے فوری مدد فراہم کی۔ اس کے باوجود انہوں نے اس شام ٹرمپ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی، جہاں وہ ایوان کے عقبی حصے میں بیٹھے نظر آئے۔ کئی ڈیموکریٹک ساتھیوں نے تقریب سے قبل ان سے ملاقات بھی کی۔ بہرحال بدھ کی صبح ان کے اہل خانہ نے ٹرنر کی وفات کی دکھ بھری خبر سب کو دی۔ نومبر 2024 میں کانگریس کے لیے منتخب ہونے سے قبل ٹرنر نے ہیوسٹن کے میئر کے طور پر8 سال خدمات انجام دیں اور پچیس سال سے زائد عرصہ ٹیکساس کی اسٹیٹ لیجسلیچر کا حصہ رہے۔ وہ اپنی قریبی اتحادی شیلا جیکسن لی کی وفات کے بعد کانگریس کی نشست پر براجمان ہوئے جو جولائی 2024 میں لبلبے کے کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔ مقامی ڈیموکریٹک قیادت نے ٹرنر کو ان کی جگہ انتخابی فہرست میں شامل کیا، اور وہ باآسانی یہ نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے 3 جنوری 2025 کو کانگریس میں حلف اٹھایا۔ ان کے انتقال کے بعد، ٹیکساس کانگریشنل ڈیلیگیشن میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے ۔
پاکستانی کمیونٹی کا خراجِ عقیدت
ٹرنر پاکستانی کمیونٹی میں بھی خاصے مقبول تھے۔ ان کی وفات پر سعید غنی، محمد طاہر جاوید، ریحان صدیقی اور علی شیخانی سمیت کئی معروف پاکستانی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں نیک الفاظ میں یاد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرنر کی خدمات اور ان کے مثبت کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔




