ہیوسٹن، ٹیکساس، امریکا کا چوتھا بڑا شہر، اپنی متنوع ثقافت، بھرپور معیشت اور بین الاقوامی کیمونٹیز کے امتزاج کے لیے شناخت کیا جاتا ہے۔ یہ شہر لاکھوں افراد کا مسکن ہے، جو مختلف نسلی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور اسے ایک حقیقی کثیر الثقافتی مرکز بناتے ہیں۔ جنوبی ایشیائی کمیونٹی ہیوسٹن کے معاشی، سماجی اور ثقافتی تانے بانے میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہاں 80 ہزار پاکستانی اور ڈیڑہ لاکھ سے زائد بھارتی نژاد امریکی آباد ہیں۔ شہر میں تقریباً ہزاروں بنگلہ دیشی، نیپالی، سری لنکن اور دیگر جنوبی ایشیائی باشندے رہائش پذیر ہیں۔ یہ برادریاں کاروبار، تعلیم، سیاست، صحت اور مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں جو ہیوسٹن کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان ممالک کی مسلمان آبادی کی ایک بڑی تعداد یہاں آباد ہے۔ جو ہر سال سالانہ افطار کا اہتمام کراتی ہے۔ گزشتہ 25 سال سے یہ سالانہ افطارڈنر اتحاد اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت بن چکا ہے۔ رواں سال بھی رمضان المبارک کے موقع پر اتوار 9 مارچ کو بایو سٹی ایونٹ سینٹر میں اس تقریب کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ جہاں مختلف مذاہب، کمیونٹی رہنما اور شہری ایک ساتھ جمع ہو کر روحانی سوچ، ثقافتی ورثے، اور مشترکہ اقدار کا جشن منائیں گے۔ اس موقع ہر ہوسٹن کے مئیرجان وائٹمائر بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ وہ شہر میں شمولیت، بین المذاہب ہم آہنگی اور کمیونٹی میں مثبت روابط کی اہمیت پر زور دیں گے۔ درحقیقت ہیوسٹن افطار ایک اہم روایت بن چکا ہے جو شہر میں یکجہتی اور بین الثقافتی رشتوں کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تقریب مختلف برادریوں کے درمیان مکالمے، باہمی احترام، اور خیرسگالی کو بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ منتظمین نے تمام شرکاء کو جلد از جلد رجسٹریشن کروانے کی تلقین کی ہے، کیونکہ نشستیں جلد بھرنے کا امکان ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ہیوسٹن کی یہ تقریب رنگا رنگ ثقافت اور مختلف برادریوں کے درمیان مضبوط تعلقات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔
پلس اور پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کا تاریخی سنگ میل
ایک خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ پلس نے پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کے ساتھ مل کر...




